نئی دہلی۔21؍ مارچ۔ ایم این این۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک بار پھر فوری ڈی اسکیلیشن اور سفارتی حل پر زور دیا ہے، جبکہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم مودی نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوری کشیدگی کم کرنا ضروری ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ عمان کے سلطان کے ساتھ گفتگو میں مودی نے عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کی، جبکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزاد جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا۔ اسی دوران، عالمی سطح پر بھی بھارت کی سفارتی سرگرمیاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، مودی نے دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ بھی رابطے کیے ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔ ماہرین کے مطابق، بھارت کا یہ مؤقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تنازعات کے حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور توازن پر زور دیا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال، جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہے ہیں، فوری سفارتی مداخلت کی متقاضی ہے، اور بھارت اس میں ایک متوازن اور فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر عالمی طاقتیں اسی طرح سفارتی کوششیں جاری رکھتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔

