China

بھارت اور چین بتدریج تجارت، سفر اور تعلقات بحال کرنے کی جانب گامزن

نئی دہلی؍ بیجنگ۔ 21؍ مارچ۔ ایم این این۔بھارت اور چین کے درمیان تعلقات، جو 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، اب آہستہ آہستہ بحالی کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفتوں میں سرحدی تجارت، فضائی روابط اور عوامی تبادلوں کی تدریجی بحالی شامل ہے، جسے ماہرین دونوں ممالک کے درمیان محتاط ’’ داؤ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق، دونوں ممالک نے تاریخی لپو لیکھ پاس کے ذریعے سرحدی تجارت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 2020 سے بند تھی۔ یہ اقدام نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والی مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ لپو لیکھ، ناتھولا اور شپکی لا جیسے روایتی تجارتی راستوں کی بحالی دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں اعتماد سازی اور تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔  اسی سلسلے میں، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی پروازوں کی بحالی بھی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جو تقریباً پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام سے کاروباری، تعلیمی اور سیاحتی روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔  تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی اور بیجنگ اپنے اختلافات کے باوجود تعلقات کو مکمل تعطل کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ بحالی محدود اور مرحلہ وار ہے، اور اسے مکمل معمول پر واپسی نہیں سمجھا جا سکتا۔سرحدی کشیدگی، خاص طور پر لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر، اب بھی ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات ابھی حل طلب ہیں۔ ایسے میں یہ تعاون زیادہ تر اقتصادی اور عوامی سطح پر محدود رکھا جا رہا ہے۔مزید برآں، لپو لیکھ جیسے علاقوں پر علاقائی حساسیت بھی برقرار ہے، جہاں نیپال نے بھی اپنے دعوے پیش کیے ہیں، جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔  ماہرین کے مطابق، بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کی یہ نئی سمت ایک “محتاط توازن” کی عکاسی کرتی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک طرف اقتصادی تعاون کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسٹریٹجک اختلافات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تدریجی اقدامات کامیاب رہتے ہیں، تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں استحکام کے لیے بھی مثبت اشارہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related posts

⁠⁠⁠⁠⁠⁠⁠شی جن پھنگ اور تھائی لینڈ کی وزیر اعظم پھیتھونگ تھارن شناوترا کے درمیان بات چیت

Awam Express News

چین میں کویت کے سفیر: ہم تعمیری میڈیا ڈائیلاگ کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کی حمایت کرنے کے خواہاں ہیں۔

Awam Express News

چینی صدر شی جن پھنگ روس میں برکس ممالک کے سولہویں سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے

Awam Express News