International National

جمعیۃ علماء ہند کا سہ روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ اختتام پذیر

تیس ہزا رسے زائد کارکنان و نوجوانوں کی تربیت کا منصوبہ پیش ، آئندہ چھ ماہ میں ڈیرھ ہزار مساجد کو مثالی بنانے کا عزم ، سالانہ کیلنڈر اور شعبہ رفیق پر زور ۔موجودہ دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے تربیت یافتہ افراد کی سخت ضرورت: صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی
پورٹ بلیئر / انڈمان و نکوبار، 15 اپریل 2026:جمعیۃ علماء ہند کا دو روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ ہوٹل اے آر پرائیڈ، ریزیڈنسی، جنگلی گھاٹ، وجے پورم، ضلع جنوبی انڈمان میں مختلف نشستوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کی صدارت بالترتیب مفتی شرف الدین قاسمی انڈمان ، مولانا سعید احمد منی پور، مفتی احمد دیولہ گجرات، ڈاکٹر قاضی عبدالماجد آندھرا پردیش اور مولانا رحمت اللہ میر کشمیر نے کی جب کہ ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سبھی نشستوں کی نظامت کی۔ اجلاس میں تنظیمی استحکام، شعبہ تربیت اور رفیق سازی کو آئندہ چھ ماہ کی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، نیز سالانہ کیلنڈر، مثالی مسجد، مثالی اضلاع کے اہداف اور مرکز سے ضلع سطح تک تربیتی پروگراموں کے نئے خاکے کی منظوری دی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ کے تعمیری پروگراموں کو زمینی سطح پر مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔
اپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے نہایت مؤثر انداز میں کہا کہ جمعیۃ کی اصل قوت اس کے تربیت یافتہ، مخلص، باصلاحیت اور منظم کارکنان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض افراد کو تنظیم سے وابستہ کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی فکری، عملی اور تنظیمی تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سماجی، فکری اور قومی چیلنجز کا مقابلہ صرف منظم اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مولانا مدنی نے نوجوان نسل کو درپیش سنگین مسائل کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آج نشہ، بین المذاہب شادیوں کے بڑھتے رجحانات، اور عقائد میں شکوک و شبہات ہمارے معاشرے کے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو بروقت سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ سے جوڑ دیا جائے تو ان فتنوں کا مؤثر تدارک ممکن ہے۔ اسی سلسلے میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ سیرت کوئز مقابلہ کو جدید اور مؤثر انداز میں اسکولوں، کالجوں اور نوجوان طبقہ تک وسیع پیمانے پر پہنچایا جائے، تاکہ نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی مضبوط بنیادوں پر ہو سکے۔انہوں نے تنظیمی استحکام، باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینے کے لیے سالانہ کیلنڈر کے مطابق باقاعدہ اجلاسوں کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی یونٹ ہفتہ وار، ضلعی یونٹ ماہانہ، اور صوبائی یونٹ ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ میٹنگ منعقد کریں۔ مولانا مدنی نے مثالی مسجد کے نظام کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسجد کو ہماری تمام سماجی، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا جائے تو ملت کو اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اسی عزم کے تحت مختلف ریاستی یونٹوں نے اگلے چھ ماہ میں مجموعی طور پر 1450 مساجد کو مثالی بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔
اجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے اصلاحِ معاشرہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی اصلاح صرف تقاریر سے ممکن نہیں بلکہ ہر محلہ اور ہر علاقے میں فعال کمیٹیاں قائم کرنا ہوں گی۔ انھوں نے شادی بیاہ میں بےجااخراجات، غیر ضروری رسومات اور سماجی خرابیوں کے خاتمے کے لیے مستقل عوامی مہم چلانے پر زور دیا اور ائمہ مساجد کی تربیت کے لیے مستقل ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی اضطراب کے ماحول میں اکابر کی اعتدال، حکمت اور اتحاد کی تعلیمات کو مضبوطی سے اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مدارس، مساجد اور مکاتب کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور نوجوان نسل کو دین و سیرت سے جوڑنے پر زور دیا۔
اس اجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری امین پوکرن، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا قاضی عبدالماجد صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃعلماء یوپی ، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مفتی احمد دیولہ صدر جمعیۃ علماء گجرات ،مولانا شمس الدین بجلی ناظم اعلی ٰ جمعیۃ علماء کرناٹک ، مولانا سعید صدر جمعیۃ علماء منی پور سمیت مختلف ریاستی صدور اور ذمہ داران نے بھی اپنے خیالات اور مشوروں کا اظہار کیا۔ متعدد عنوانات سے پرزنٹیشن مولانا محمد عمر قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃعلماء ہند برائے جنوب ہند، مولانا محمد عظیم اللہ قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، ڈاکٹر شبیر مشتاق مع پی ایم او ٹیم نے پیش کی ۔
اس اجلاس مختلف صوبوں کے جو ذمہ داران شریک ہوئے وہ حسب ذیل ہیں : مولانا سید محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی وناظم اعلی مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی ، جمعیۃ علماء مغربی یوپی زون کے صدر مولانا محمد عاقل قاسمی و ناظم اعلی قاری محمد یامین، جمعیۃ علماء مشرقی زون کےصدر مولاناعبدالحیی مفتاحی و ناظم اعلی مفتی جمیل الرحمن قاسمی، جمعیۃ علماء سینٹرل زون کے صدر مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی وناظم اعلیٰ مفتی ظفر احمد قاسمی ، جمعیۃ علماء ہریانہ پنجاب و ہماچل پردیش و چندی گڑھ کے صدر مولانا علی حسن مظاہری و ناظم اعلی مولانا محمد یحیی کریمی و ناظم تنظیم مولانا عبداللہ خالد قاسمی ، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری و ناظم اعلی مولانا آفتاب عالم قاسمی ، جمعیۃعلماء راجستھان کے صدر مولانا حبیب اللہ قاسمی و ناظم اعلی مولانا عبدالواحد کھتری اور ناظم تنظیم مولانا الیاس قاسمی ، جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمدہارون ، جمعیۃ علماء گجرات کے صدر مفتی احمد دیولہ وناظم اعلی پروفیسر نثار احمد انصاری اور سکریٹری محمد اسلم قریشی ، جمعیۃ علماء بہار کے صدر مولانا مفتی جاوید اقبال کشن گنجی و ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم قاسمی اور ناظم تنظیم مولانا شمس تبریز قاسمی ، جمعیۃ علماء اڈیشہ کےناظم اعلی مولانا محمد اکرم تقی قاسمی ، جمعیۃ علماء کرناٹک کےصدر مفتی افتخار احمد قاسمی ، ناظم اعلی مولانا مفتی شمس الدین بجلی ، حافظ سید عاصم عبداللہ ، جمعیۃ علماء کیرل کے صدر مولانا محمد ابراہیم ، جمعیۃعلماء تامل ناڈ کے صدر مولانا منصور کاشفی ، جمعیۃ علماء آندھرا پردیش کےصدر ڈاکٹر قاضی عبدالماجد ، جمعیۃ علماء گوا کے صدر مولاناسمیع احمد مظاہری و ناظم اعلی مولانا عمر فاروق ، جمعیۃ علماء انڈمان ونکوبار کےصدر مفتی شرف الدین قاسمی ، جمعیۃ علماء آسام کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری مولانا فضل الکریم قاسمی وسکریٹری مولانا عبدالقادر قاسمی، جمعیۃ علماء منی پور کے صدر مولانا سعید احمد و ناظم اعلی مفتی شفیع اللہ قاسمی، جمعیۃعلماء تری پورہ کےصدر مفتی عبدالمومن قاسمی ، جمعیۃ علماء ناگالینڈ کے ناظم اعلی ماسٹر قمرالزماں ۔ مرکزی دفتر سے جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی ، ناظم دفترمولانا نجیب اللہ قاسمی ، ڈاکٹر شبیر مشتاق ، اویس سلطان ،مولانا مفتی ذاکر حسین قامی و عادل نصیر بھی شریک ہوئے ۔ آخر میں مولانا محمود اسعد مدنی نے انڈمان و نکوبار یونٹ، منتظمین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ یہ مشاورتی اجلاس ملت کے لیے خیر و برکت اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے، جبکہ مفتی شرف الدین قاسمی، صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار، نے تمام مہمانوں، اپنے رفقاء اور ہوٹل انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

Related posts

پی ایم-دکش یوجنا کے تحت ہنر مندی کا فروغ

Awam Express News

ایودھیا کا رام مندر دیوالی پر 2.5 ملین دیئے جلاکر نیا ریکارڈ بنانےکیلئےتیار

Awam Express News

کرنیجی فاؤنڈیشن“ میں بہار کے کابینی وزیر آلوک مہتا، علی اشرف فاطمی سمیت کئی اہم لیڈران کی شرکت

Awam Express News