Hajj 2026 Talk

اللہ اکبر! یہ تصویر نہیں، ماں کے محبت کی نشانی ہے ۔

زاھد آزاد جھنڈانگری

یومِ عرفہ… جبلِ رحمت کی ڈھلان… لاکھوں احرام پوش… اور ان کے بیچ ایک بیٹا اپنی ماں کو پیٹھ پر اٹھائے آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔
ماں کا سفید دوپٹہ بیٹے کے کندھے سے بندھا ہوا ہے۔ یہ دوپٹہ نہیں، جنت کی رسی ہے جسے یہ بیٹا تھامے کھڑا ہے۔ بیٹے کی پیشانی پر پسینہ ہے، مگر چہرے پر تھکن نہیں — سکون ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس وقت دنیا کا سب سے بھاری مگر سب سے ہلکا محبت بھرا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

. یہ منظر کیا کہتا ہے؟
یہ کہتا ہے کہ "ماں کے قدم رک گئے تو کیا ہوا، بیٹے کے قدم تو چل رہے ہیں”۔
یہ کہتا ہے کہ "جب ماں نے مجھے 9 مہینے اپنے پیٹ میں اٹھایا، تو کیا میں چند گھنٹے اسے اپنی پیٹھ پر نہیں اٹھا سکتا؟”
یہ کہتا ہے کہ "حج کا اصل طواف ماں کے گرد ہوتا ہے”۔

پیچھے جبلِ رحمت ہے، آگے رحمت کا دروازہ ہے، اور بیچ میں یہ بیٹا کھڑا ہے — رحمت اور رحمت کے درمیان پل بن کر۔
اے اللہ تو اس بیٹے کی تمام جائز خواہشات پوری فرما دے۔

 نگاہ آسمان کی طرف کیوں؟
اس بیٹے کی نگاہ اوپر ہے۔ وہ فرشتوں سے نہیں، ربِ فرشتہ سے مخاطب ہے۔ شاید کہہ رہا ہے:
"یا اللہ! میری ماں نے بچپن میں میری ہر ضد پوری کی، آج میں اس کی یہ ضد پوری کر رہا ہوں کہ مرنے سے پہلے تیرا گھر دیکھ لے۔”
"یا اللہ! اس کے گھٹنوں نے جواب دے دیا، میرے گھٹنے حاضر ہیں۔”

. ہم سب کے لیے پیغام
. *والدین زندہ ہوں تو خدمت کریں — یہ تصویر ان سب کے منہ پر طمانچہ ہے جو والدین کو اولڈ ہوم بھیج دیتے ہیں۔ بد نصیب ہیں وہ بچے ؟
. *حج مبرور کیا ہے؟ شاید یہی ہے۔ 70 سالہ ماں کو کندھے پر اٹھا کر عرفات میں لا کھڑا کرنا۔
. *اصل وی آئی پی کون ہے؟ — نہ بادشاہ، نہ وزیر۔ اس میدان کا وی آئی پی یہ بوڑھی ماں ہے جس کی سواری اس کا بیٹا بنا ہوا ہے۔

دعا:
اللّٰھم ارحمھما کما ربیانی صغیراً۔
اللّٰھم تقبل من ھذا الحاج البار حجہ، و اجعل أمه رفیقته فی الجنة کما کانت رفیقته علی ظھره فی عرفات۔
اللّٰھم لا تحرمنا برّ والدینا، و اجعلنا من البارین المرحومین۔ آمین

اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔
اس نیک حاجی بیٹے کا حج قبول فرما، اور اس کی ماں کو جنت میں بھی اس کا ساتھ نصیب فرما جیسے عرفات میں اس کی پیٹھ پر تھی۔
ہمیں والدین کی خدمت سے محروم نہ فرما، اور ہمیں نیک و رحم کیے گئے لوگوں میں شامل فرما۔ آمین

آخری جملہ:
عرفات کے میدان میں لاکھوں ہاتھ اٹھے تھے، مگر اللہ کو سب سے پیارا ہاتھ وہ لگا ہوگا جو اپنی ماں کو تھامے ہوئے تھا۔

یہ تصویر دیکھ کر دل سے بے اختیار نکلتا ہے: "کاش میری ماں زندہ ہوتی… کاش میں بھی ایسا بیٹا ہوتا”۔

*زاہد آزاد جھنڈانگری نیپال

Related posts

امیر لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت کا آجانا خطرناک ہے!!!

Awam Express News

ہر سال کی طرح امسال بھی ہوئی قربانی!!

Awam Express News

اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Awam Express News