Delhi-NCR

طب یونانی اور اُردو لازم و ملزوم ہیں: پروفیسر احتشام الحق قریشی

نئی دہلی۔ 11 مارچ 2023
پروفیسر احتشام الحق قریشی (سابق پرنسپل اور ڈین فیکلٹی آیورویدک اور یونانی یونیورسٹی، کانپور) کا دہلی پہنچنے پر آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے دریا گنج واقع دفتر میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد آفتاب احمد، ڈاکٹر مرزا آصف بیگ، ڈاکٹر سراج عظیم، اسرار احمد اُجینی، محمد اویس گورکھپوری اور محمد عمران قنوجی وغیرہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے پروفیسر احتشام الحق قریشی کے استقبالیہ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو سنہرے دور کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ آج ان کا دہلی آنا ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ ان کی تجاویز اور مشورہ سے ہمیں طب یونانی کو آگے بڑھانے اور اس کی تشہیر کرنے میں رہنمائی ملی ہے۔
اس موقع پر پروفیسر احتشام الحق قریشی نے کہا کہ حکومت کا طب یونانی کے حوالے سے رویہ تسلی بخش نہیں ہے اور NCISM میں طب یونانی کے کسی شخص کو اہم مقام نہ ملنا اور BUMS میں بوقت داخلہ اردو کی لازمیت ختم کرنا طب یونانی کو تباہ کرنے جیسا قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ CCIM میں ایسا نہیں تھا، وہاں ہم آیوروید کے مساوی حق رکھتے تھے۔ اس لیے یونانی طریقہ علاج سے جڑے لوگوں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، سب کا اعتماد جیتنے کے لیے انصاف کا پیمانہ ایک ہونا چاہیے۔ اردو سے بھی یہی رشتہ ہے، اردو ہندوستان کی زبان ہے اور اس ہندوستانی زبان میں یونانی طریقہ علاج پڑھا جاتا ہے نیز اردو زبان طب یونانی کے لیے اہم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، اردو یونانی کے لیے لازمی حیثیت رکھتی ہے۔
جاری کردہ
(محمد عمران قنوجی)
پریس سکریٹری، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، نئی دہلی

Related posts

حکومت فرقہ پرستی کو جلد لگام دے

Awam Express News

خسرو فاؤنڈیشن کے ذریعے شائع شدہ کتاب ’’بھارت کی شرعی حیثیت‘‘ کی رونمائی اور اس پر مکالمہ 28 اکتوبر کو

Awam Express News

سلمان خورشید انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے نئے صدر منتخب

Awam Express News